لاہور: قاری دے مبینہ تشدد نال 12 سالہ طالبِ علم جاں بحق

برکی(27 جون 2026): قاری نے معصوم بچے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

لاہور کے علاقے برکی کے ایک مدرسے میں قاری کے مبینہ بدترین تشدد کے نتیجے میں 12 سالہ بچہ علی حیدر جاں بحق ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کو ملزم کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدرسے کے قاری غلام رسول نے چند روز قبل معصوم بچے کو صرف اس وجہ سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ قاری کے کہنے پر کسی ‘ختم’ پر نہیں گیا تھا۔ تشدد کی وجہ سے بچے کا بازو ٹوٹ گیا اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔ ملزم نے زخمی حالت میں ہی بچے کو بہاولنگر کی بس پر بٹھا کر اس کے گھر روانہ کر دیا۔ جب علی حیدر گھر پہنچا تو اسے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول بچے کی لاش کا لاہور سے پوسٹ مارٹم کروایا جا رہا ہے تاکہ موت کی حتمی وجوہات سامنے آ سکیں۔ پولیس نے مقتول علی حیدر کے چچا کی مدعیت میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ گھلو