اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی دی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس۔
سمری کس سٹیج پر، آپ کو کچھ معلوم ہے؟ سوچا تھا وفاقی حکومت ذمہ داری پوری کریگی لیکن ایسا نہیں ہوا: جسٹس ارباب طاہر برہم، وفاق اور وزارتِ قانون مختصر رپورٹس جمع کرائیں: تحریری حکمنامہ، اٹارنی جنرل کو بھی عدالتی معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیا گیا۔
اسلام آباد (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدر مملکت کی جانب سے نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری نہ ہونے کے خلاف درخواست پر وفاق اور وزارت قانون سے تحریری رپورٹ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرلی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہاکہ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ آپ کی کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسے لگتا ہے وفاقی حکومت کو اس سے متعلق کوئی دلچسپی نہیں کیا ہو رہا ہے، ہم نے سوچا تھا وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا، سمری کس سٹیج پر ہے؟ آپ کو کچھ معلوم ہے؟ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن تھی جوڈیشل کمیشن نے منظوری دی تھی وہ بھی رک چکی ہے، اس طرح سمری رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا، پہلے تو 15 دن نہیں ہوئے تھے اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔
صدر کے اختیار کا معاملہ بعد میں دیکھیں گے ابھی وفاقی حکومت تو بتائے اس نے 15 دن گزارنے کے بعد کیا کیا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے نئے تعینات ہونے والے ججز کا معاملہ لٹکا ہوا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا آئین بڑا کلیئر ہے جب وقت گزر جائے تو کیا ہو گا، صدر اس طرح سمری رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا صدر اب تو سمری مسترد بھی نہیں کر سکتے، عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کر دی۔ بعد ازاں سماعت کے تحریری حکمنامہ میں عدالت نے وفاق اور وزارتِ قانون سے تحریری رپورٹ طلب کر لی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل یقینی بنائیں کہ وفاق اور وزارتِ قانون مختصر رپورٹس جمع کرائیں جس میں تفصیل دی جائے کہ کس تاریخ کو وزیراعظم نے صدرِ مملکت کو سمری ارسال کی، اُس کے بعد اگر کوئی کارروائی کی گئی تو وضاحت کی جائے، کیس کی سماعت آج 11 اگست کو دوبارہ ہو گی۔
















