شمالی کوریا دے پاس 57 نہیں بلکہ 120 تک ایٹمی وار ہیڈ موجود نیں: جنوبی کوریا نے ٹرمپ دے دعوے دی تردید کر دتی

جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کے تخمینے کے مطابق شمالی کوریا کے پاس 80 سے 120 کے درمیان ایٹمی وار ہیڈز  موجود ہیں۔ 

یہ تعداد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ دعوے سے کافی زیادہ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے پاس 57 ایٹمی ہتھیار ہیں۔

جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے قانون سازوں کو بتایا کہ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس لگ بھگ 80 سے 120 وار ہیڈز ہیں تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ حتمی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے۔ 

بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اعداد و شمار نجی تحقیقی اداروں کے تخمینوں سے اخذ کیے گئے ہیں اور جنوبی کوریا کی فوج باضابطہ طور پر ان کی تصدیق نہیں کر سکتی۔

جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک روز قبل دیے گئے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کم جونگ ان کے پاس 57 ’انتہائی طاقتور جوہری ہتھیار‘ ہیں، تو وزیر دفاع نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ، یہ اعداد و شمار کچھ مختلف معلوم ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ بیان بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور رواں سال کے آخر میں ان سے متوقع ملاقات کے منصوبوں پر گفتگو کے دوران دیا تھا۔

جنوبی کوریا روایتی طور پر شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے کے تفصیلی تخمینوں کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے گریز کرتا رہا ہے اور وہ خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی اپنی پالیسی کے تحت شمالی کوریا کو باضابطہ طور پر ایک ‘جوہری ہتھیاروں والی ریاست’ کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔

اپنا تبصرہ گھلو