پاس ورڈ یا پن کوڈ، دونویں وچوں زیادہ محفوظ کیڑھا اے؟
اگر آپ اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں تو اس میں متعدد فیچرز دستیاب ہوتے ہیں۔
آن لائن اکاؤنٹس کے لیے پاس ورڈ یا فون اسکرین ان لاک کرنے کے لیے پن کوڈ کو بھی استعمال کرتے ہوں گے۔
مگر سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں کونسا طریقہ کار زیادہ محفوظ ہے؟
ایک پاس ورڈ کو متعدد آن لائن اکاؤنٹس پر لاگ ان ہونے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ پن کوڈ سے کسی مقامی ڈیوائس کا سسٹم تک رسائی ملتی ہے۔
تو آسان الفاظ میں آپ کے پاس ورڈ کی ایک کاپی ویب سائٹس کے سرورز پر کسی جگہ محفوظ ہوتی ہے جبکہ پن کوڈ صرف ڈیوائس سے ہی منسلک ہوتا ہے۔
اب تصور کریں کہ اگر کسی کو آپ کے پاس ورڈ تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ اسے مختلف اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرکے ذاتی تفصیلات چوری کرسکتا ہے۔
اگر اسی فرد کے پاس آپ کا پن کوڈ موجود ہو تو وہ اسے صرف ڈیوائس پر استعمال کرسکتا ہے جس کے لیے پن کوڈ بنایا جاتا ہے۔
یعنی پن کوڈ کو ریموٹلی استعمال نہیں کیا جاسکتا، تو اس لحاظ سے پن کوڈ زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ پن کوڈ کو آپ ویب سائٹس یا ایپ پر لاگ ان ہونے کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
ایسا پاس ورڈز کی بجائے پاس کیز کا آپشن ان ایبل کرنے پر ممکن ہوتا ہے۔
پاس کیز بنیادی طور پر ڈیجیٹل کیز ہیں جن کا استعمال آسان ہوتا ہے جبکہ یہ زیادہ محفوظ بھی ہوتی ہیں کیونکہ یہ کسی ویب سرور پر اسٹور نہیں ہوتیں۔
طویل پاس ورڈ کی بجائے یہ ٹیکنالوجی 4 ہندسوں پر مشتمل پن کوڈ یا بائیو میٹرک تفصیلات کو لاگ ان ہونے کے لیے استعمال کرتی ہے
تو جب کسی ویب سائٹ یا ایپ میں پاس کیز کا آپشن ان ایبل ہو تو اس تک رسائی کے لیے پن کوڈ درج کرنا ہوتا ہے۔
اب چونکہ پن کو انٹرنیٹ پر ٹرانسمیٹ نہیں کیا جاسکتا تو ایک ہیکر اسے کسی غلط مقصد کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔
اگر وہ ڈیوائس کو ہیک بھی کرلے تو پن کوڈ انکرپٹڈ ہوتا ہے جبکہ پاس ورڈز کو یہ تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
اگرچہ پن کوڈ پاس ورڈ سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے مگر اس کے لیے بھی مضبوط پن کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر آپ سادہ جیسے 1234 یا اس طرح کے پن کوڈ کو رکھتے ہیں تو اس تک رسائی زیادہ آسان ہوتی ہے۔





















