دہشتگردی: مشرقی ہمسایہ ملک ملوث : اسلحہ، مالی معاونت فراہم کررہا، افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی، آخری فسادی دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی : شہباز شریف

دشمن معرکہ حق اور سفارتی کامیابیوں سے خائف، ملکر فتنہ ختم کرینگے: وزیراعظم

بلوچستان ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے شہباز شریف کا خطاب؛ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شرکت، کروشین وزیر خارجہ سے ملاقات اور اوورسیز پاکستانیوں کا شکریہ

بلوچستان ایپکس کمیٹی اجلاس اور دہشت گردی کا خاتمہ

اسلام آباد، کوئٹہ (نامہ نگار، سٹاف رپورٹر): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے فتنے میں پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کا بھرپور کردار ہے جو دہشت گردوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے، لیکن ملک کی سیاسی و عسکری قیادت مکمل یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور آخری فسادی دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ دشمن پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور گزشتہ برس معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے خائف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

  • شرکائے اجلاس: اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ، احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اور شہدا کو خراج عقیدت

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں انتہائی افسوسناک دہشت گردی کے واقعات پیش آئے جن میں پولیس اہلکار، سکیورٹی فورسز کے جوان اور بے گناہ شہری شہید ہوئے۔

اہم بیان: “سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری فسادی دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔”

شہباز شریف نے کہا کہ افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پوری قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ قوم اپنی بہادر افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور یقین رکھتی ہے کہ ان قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم ریاست ان عناصر کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنائے گی۔ شہدا کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ یہی قربانیاں پاکستان میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔

کروشیا کے وزیر خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات

دریں اثنا، وزیراعظم سے جمہوریہ کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور، ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔

  • باورق تعلقات: وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔
  • تعاون کے شعبے: وزیراعظم نے تجارت و سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، روابط، زراعت، سیاحت اور ہنرمند افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
  • دعوتِ دورہ: وزیراعظم نے کروشیا کے صدر زوران میلانوویچ اور وزیراعظم آندرے پلینکوویچ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے سرکاری دورے کی پُرخلوص دعوت دی۔

کروشیا کے وزیر خارجہ نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستان اور اس کی قیادت کے نمایاں کردار کو سراہا۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اظہارِ تشکر

علاوہ ازیں، وزیراعظم شہباز شریف نے مالی سال 2025-26 میں گزشتہ برس (2024-25) کے مقابلے زیادہ ترسیلات زر (Remittances) بھیجنے پر سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے دلی اظہار تشکر کیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں محب وطن سمندر پار مقیم پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر بھیجیں، جس پر پوری قوم ان کی مشکور ہے۔

اپنا تبصرہ گھلو