بجٹ تجاویز، منگاں تے زرِ مبادلہ کمان والے
حکومت آئندہ چند روز میں بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جس کے ساتھ ہی ایوانِ تجارت و صنعت اور مختلف تجارتی تنظیموں کی جانب سے مطالبات اور تجاویز بھی سامنے آرہی ہیں۔ تاجروں اور کاروباری تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ٹیکس ریٹ کو کم کرنا اور ٹیکس بیس کو بڑھانا چاہیے۔
اس سال وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت کی جانب سے دو الگ الگ شیڈو بجٹ پیش کیے گئے ہیں۔ لاہور میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ اور یو بی جی کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے پہلا جب کہ دوسرا شیڈو بجٹ ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر اور بزنس مین پینل پروگریسیو کے چیئرمین ثاقب فیاض مگوں، نائب صدر ایف پی سی سی آئی امان پراچہ اور شبیر منشاء نے کراچی میں پیش کیا۔
عاطف اکرام شیخ نے شیڈو بجٹ میں حکومت پر زور دیا کہ صنعتی ترقی کے لیے پانچ سالہ اصلاحاتی پروگرام شروع کرے جس میں صنعتوں کو ریلیف دینے کے اقدامات، سرمایہ کاری میں اضافے کی حکمتِ عملی کے ذریعے ٹیکس محصولات میں قدرتی اضافے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آئندہ پانچ سال میں ترقی کی شرح ساڑھے اٹھ فیصد کرنے کے علاوہ فی کس آمدن کو 2900 ڈالر تک پہنچانے کے اہداف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بنیادی شرحِ سود میں کمی کے ذریعے 40 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو ختم کیا جائے گا۔
ایف پی سی سی آئی شیڈو بجٹ دستاویزات کے مطابق یہ تمام اہداف اس وقت پورے ہوں گے جب سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کی جائے گی۔ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جائے گی۔ اور تجارتی قرضوں پر سود کی شرح کم کی جائے گی۔
اسی طرح کراچی پریس کلب میں میڈیا کانفرنس میں ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ حکومت سپر ٹیکس ختم کرے، فکس ٹیکس رجیم کو بحال اور لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سہولت دی جائے۔ سپر ٹیکس ختم اور کاٹن سیڈ سے ٹیکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکس ادا کرنے والوں کو ٹیکس جمع کرنے والی مشینری پر اعتماد نہیں ہے۔ اسی طرح ملک کے سب سے بڑے ایوان تجارت و صنعت کے سی سی آئی سمیت دیگر چیمبرز نے بھی اپنی بجٹ تجاویز میں وہی باتیں دہرائی ہیں جو اوپر بیان کی جا چکی ہیں۔
تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے مطالبات اپنی جگہ مگر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کاروباری، صنعتی اور خصوصاً برآمدی شعبے کو جتنی بھی مراعات دی گئی ہیں۔ وہ معیشت میں ایک بڑی تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس، سستے قرضوں، ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور دیگر مراعات کے باوجود ملکی برآمدات میں 30 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مگر دو شعبے ایسے ہیں جو نہ تو کسی ٹیکس ریلیف کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ہی حکومت سے مراعات طلب کرتے ہیں، اس کے باوجود یہ دو شعبے نہ صرف قیمتی زر مبادلہ کما رہے ہیں بلکہ ملک اور بیرونِ ملک اپنی اسکلز کی بنیاد پر خدمات فراہم کرکے اور مختلف کام کرکے اہلِ خانہ کی کفالت بھی کر رہے ہیں۔ یہ دو شعبے ہیں فری لانسنگ اور سمندر پار مقیم پاکستانی۔
فری لانسنگ کا شعبہ تقریباً دس سال قبل اس وقت فعال ہوا جب انٹرنیٹ پر ایسے پلیٹ فارم متعارف ہوئے جن پر لوگ اپنی ڈیجیٹل مہارتوں کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں خدمات فراہم کرکے یا اپنے ہنر کو فروخت کر کے پیسے کما سکیں۔ پاکستانی نوجوانوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مختلف قسم کی مہارتوں اور کاموں کو اپنا کر اپنے کنبے کی کفالت شروع کی اور آج ایک اندازے کے مطابق 23 سے 24 لاکھ نوجوانوں کو اس کے ذریعے اچھا روزگار ملا ہوا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن کے بانی چیئرمین ابراہیم امین کہتے ہیں کہ پاکستان کا شمار ڈیجیٹل لیبر فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں ہورہا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر فری لانسنگ مارکیٹ کے ٹاپ فائیو ممالک میں سے ایک ہے۔ ابراہیم امین کا کہنا ہے کہ ان فری لانسرز میں بڑی تعداد بڑے شہروں کے بجائے چھوٹے قصبات اور دیہات میں رہتی ہے اور انہوں نے اپنے بل بوتے پر آن لائن پلیٹ فارمز سے مختلف کورسز کرکے یا ویڈیوز دیکھ کر سیکھا اور اب دنیا بھر میں اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ ان فری لانسرز میں بڑی تعداد ان خواتین کی ہے جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ملازمت اختیار نہیں کرسکیں، مگر اس طرح گھر بیٹھے ان کو روزگار مل گیا ہے اور وہ اس دنیا میں اپنے قدم جما چکی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل کے دوران فری لانسنگ سے حاصل ہونے والی ترسیلات 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہیں۔ ابرہیم امین نے امید ظاہر کی کہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک فری لانسنگ کی آمدن ایک ارب ڈٓالر سے تجاوز کر جائے گی۔ نئے مالی سال کے بجٹ سے متعلق ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے ٹیکس ریلیف کا مطالبہ نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے تو زرِ مبادلہ آمدن پر انکم ٹیکس صفر ہے مگر فری لانسرز 0.25 فیصد ٹیکس دیتے ہیں، یہی شرح برقرار رکھی جائے۔ ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ اس وقت فری لانسرز کے لیے سب سے بڑی مشکل قانونی طریقے سے اپنی آمدن کو اندرونِ ملک لانا ہے۔ اس وقت صرف ایک کمپنی اس ضمن میں خدمات فراہم کررہی ہے جو بہت زیادہ چارجز وصول کرتی ہے۔ اس شعبے میں مسابقت ضروری ہےاور ایک سے زائد چینلز کو فعال کیا جائے تاکہ مالیاتی خدمات کا شعبہ وسیع ہو سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرے اور عالمی نظام سے منسلک ایک قومی ادائیگی گیٹ وے قائم کیا جائےجس سے پاکستان بھر کے تمام ڈیجیٹل سروس فراہم کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔
پاکستان کو بغیر مراعات کے سب سے زیادہ زرِ مبادلہ کما کر دینے والوں میں سمندر پار پاکستانی شامل ہیں جو نہ صرف اپنے اہلِ خانہ کے بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک ملازمت کر رہے ہیں بلکہ ان کی ترسیلاتِ زر کی شکل میں بھیجی گئی رقم تمام برآمدی صنعت سے زیادہ ہے۔ تادمِ تحریر اپریل تک ترسیلاتِ زر کا جو ڈیٹا دستیاب ہوا تھا، اس کے مطابق اب تک سمندر پار پاکستانی ترسیلاتِ زر کی شکل میں 33 ارب 90 کروڑ ڈالر وطن بھیج چکے ہیں۔ جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے سے ساڑھے 8 فیصد زائد ہے۔ ان ترسیلات کا بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سے آتا ہے۔ اس کے بعد برطانیہ اور امریکا میں بسنے والے پاکستانی ملک میں اپنے پیاروں کو بینکاری نظام کے ذریعے رقوم بھجواتے ہیں۔ ملکی معیشت میں اس قدر اہمیت رکھنے کے باوجود ان کی کسی تجارتی اور کاروباری تنظیم یا پلیٹ پر باقاعدہ نمائندگی نہیں ہے۔ بیرون ملک ملازمت کے لیے ہنرمند افرادی قوت کو فروغ دینا اور اس کے حوالے سے مشکلات دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ گزشتہ چند سال کے دوران اس ضمن میں بدعنوانی، بدانتظامی اور دیگر مسائل کے باعث بیرون ملک ان ملازمت پیشہ افراد کی مشکلات اور ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت ہونے کے باوجود پاکستان سے صرف ڈرائیور حضرات اور غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند افراد ہی بیرونِ ملک خاص طورپر خلیجی ممالک میں جارہے ہیں۔
اس حوالے سے وفاقی ادارۂ شماریات کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار افراد بیرونِ ملک ملازمت کے لیے گئے ہیں۔ جس میں 5 لاکھ 82 ہزار غیر ہنرمند محنت کش اور ڈرائیور تھے۔ اسی طرح سال 2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار افراد بیرون ملک ملازمت کے لیے گئے جن میں 5 لاکھ 50 ہزار ڈرائیور اور محنت کش شامل تھے۔ اسی طرح سال 2025 میں 7 لاکھ 63 ہزار افراد بیرون ملک ملازمت کے لیے روانہ ہوئے اور ان میں سے 6 لاکھ 29 ہزار صرف لیبر اور ڈرائیور تھے۔ باقی ماندہ 37 کیٹگریز میں پروفیشنلز کی بیرون ملک ملازمت کی تعداد بہت کم ہے۔
اورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین محمد عدنان پراچہ کہتے ہیں کہ ہمارے پالیسی سازوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اب خلیجی ملکوں کی معیشت تبدیل ہوچکی ہے۔ اور وہاں 39 شعبہ جات میں افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ اس پر توجہ دی جائے تاکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو خلیجی ملکوں میں ان کی قابلیت اور اہلیت کے مطابق ملازمت مل سکے۔ عدنان پراچہ کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کا خاتمہ کرکے حکومت سمندر پاکستانیوں کی مشکلات کم کرسکتی ہے اور بیرون ملک جانے پر ان کی کم از کم تیس فیصد لاگت کم ہوسکتی ہے۔ عدنان پراچہ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک جانے والوں کی یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ فنگرپرنٹس کی تصدیق اور طبی معائنے کے لیے بنائے گئے نجی شعبے کے مراکز میں کرپشن ہوتی ہے۔ اور یہ مراکز ملک کے پانچ بڑے شہروں میں ہیں جب کہ خلیجی ملکوں میں ملازمت کے لیے جانے والوں کی بڑی تعداد چھوٹے شہروں یا دیہات سے آتی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے تجویز دی کہ انگلیوں کے نشانات کی شناخت اور تصدیقی عمل کو نادرا سے جوڑا جائے جو اس کی فیس وصول کرے اور پورے ملک میں اس کے مراکز قائم ہوں تاکہ قصبات اور دیہات کے لوگ اس کے لیے بیرونِ شہر سفر کے اخراجات سے بچ سکیں۔ اس کے علاوہ طبی معائنہ بھی حکومتی مراکز صحت میں کیا جائے۔بیرون ملک ملازمت کے خواہش مندوں کی شکایت یہ بھی ہے کہ سرٹیفکیشن کی شرط کی وجہ سے ان کو رشوت بھی دینا پڑتی ہے اور بغیر رشوت کسی بھی امیداوار کو پاس نہیں کیا جاتا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔
ایوان تجارت و صنعت اور تجارتی انجمنوں کی تجاویز اور مطالبات سننے کے ساتھ ساتھ حکومت کو فری لانسنگ اور بیرون ملک افرادی قوت کے شعبے پر بھی توجہ دینا ہوگی کیونکہ یہ وہ شعبے ہیں جو حکومت سے صرف نظام میں بہتری کا تقاضا کرتے ہیں اور کسی قسم کی ٹیکس چھوٹ یا مراعات کا مطالبہ نہیں کرتے۔
















